پچھلے دنوں اپنے ایک دوست ، جو کہ سیکورٹی اور انڈسٹریل آلات بناتا ہے، کے پاس گیا اور اس سے ایسا سیکورٹی آلہ بنانے کی فرمائش کی جس سے کسی بھی موبائل فون کو ،جو اس آلے کے ادر گرد موجود ہو ،اپنے پاس رجسٹر کر لے اور اس کو کمپیوٹر سکرین پر ظاہر کردے۔ ہم تین چار گھنٹے اس کی تفصیلات کو طے کرتے رہے۔ پھر میں گھر آ کر بھی اس بارے میں سوچتا رہا۔ اسی کی تفصیلات کے بارے میں سوچتے سوچتے اچانک محسوس ہوا کہ ہم موبائل فون کمپنیوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس موبائل فون ہے بلکہ دو دو اور تین تین بھی ہیں۔لیکن ہمیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ یہ فون ہمارا عمال نامہ لکھ رہے ہوتے ہیں۔
کیونکہ جونہی ہم موبائل فون کو آن کرتے ہیں تو وہ قریب موجود تمام ٹاورز کو تلاش کرتا ہے اور قریب ترین بیس سٹیشن اس فون کو رجسٹر کر لیتا ہے لیکن ٹاورز بھی اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور فون کے سگنلز کا تجزیہ کرتے رہتے ہیں اس سے موبائل فون کمپنی کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ فون کس کس ٹاورسے کتنے فاصلے پر ہے اور اس فون کی جگہ کا تعین کر لیتے ہیں۔ یہ جگہ کا اندازہ کم و بیش پچاس میٹر تک درست ہو سکتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی بندہ کمپنی کے سوئچ روم میں بیٹھا کسی موبائل فون کو مسلسل مشاہدے میں رکھنا شروع کر دے تو وہ اس بندے کی سارے دن کی حرکات کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ یا موبائل فون کمپنی اسکا ریکارڈ رکھنا شروع کر دے تو پھر آپ کسی وقت بھی اس کو دیکھ کر صارف کی مصروفیات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ جب صرف موبائل فون اتنا بہتر ریکارڈ رکھ سکتا ہے تو جی پی ایس جو پانچ میٹر تک درست اندازہ کر سکتا ہے اس سے ریکارڈ رکھنے سے کیسے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں بلکہ میرا ایک دوست جو آسٹریلیا سے اسی ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر کے آیا ہے اس کے مطابق تو ہم ایک میٹر بلکہ اس سے کم فرق سے کسی آلے کی جگہ کا تعین کر سکتے ہیں۔ یہ تو ابھی جگہ کا تعین کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہے ۔پچھلے دنوں ٹویوٹا نے ویل چیئر کو دماغ کے ذریعے کنٹرول کیا اور انٹیل کے مطابق ہم 2020ء تک اس قابل ہو جائیں گے کہ دماغ کے ذریعے کمپیوٹر کو کنٹرول کر سکیں۔ پھر ہمارے جسم میں موجود اللہ تعالی نے اتنے سینسرز لگائے ہوئے ہیں ان سب کا ریکارڈ بھی رکھا جا سکے گا جیسے آج میں نے کیا کچھ سنا ، دیکھا یا چکھا۔ خواب ریکارڈ کرنے کی ٹیکنالوجی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ یعنی بندے کے ہر سینسر کی معلومات محفوظ کی جا سکے گی اور پھرکسی کے لئے ایسا آلہ بنانا مشکل نہیں ہے جس کی مدد سے ان تمام سیسنسرز کی ریکارڈنگ ایک ہی جگہ پر ہو سکے۔ اس طرح ہم اپنا اعمال نامہ خود بھی محفوظ رکھنے کے قابل ہو جائیں گے جبکہ ابھی ہم اپنے جسم کے بارے میں کچھ کچھ جانتے ہیں ۔ لیکن ہمیں ابھی یہ یقین بھی نہیں آتا کہ روز قیامت اللہ تعالی اس سارے ریکارڈ کو کس طرح ہمارےسامنے پیش کریں گے۔ جس نے پتہ نہیں اور کون کون سے سینسرز اور ان کا ریکارڈنگ سسٹم ہمارے جسموں کے اندر فٹ کر رکھا ہے۔ شاید جب ہم ان میں سے زیادہ تر سینسرز کو ریکارڈ کرنے کے قابل ہو گئے تو ہمارا اللہ تعالی پر یقین اور بڑھ جائے۔اور ہم اپنا اعمال نامہ بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
کیونکہ جونہی ہم موبائل فون کو آن کرتے ہیں تو وہ قریب موجود تمام ٹاورز کو تلاش کرتا ہے اور قریب ترین بیس سٹیشن اس فون کو رجسٹر کر لیتا ہے لیکن ٹاورز بھی اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور فون کے سگنلز کا تجزیہ کرتے رہتے ہیں اس سے موبائل فون کمپنی کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ فون کس کس ٹاورسے کتنے فاصلے پر ہے اور اس فون کی جگہ کا تعین کر لیتے ہیں۔ یہ جگہ کا اندازہ کم و بیش پچاس میٹر تک درست ہو سکتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی بندہ کمپنی کے سوئچ روم میں بیٹھا کسی موبائل فون کو مسلسل مشاہدے میں رکھنا شروع کر دے تو وہ اس بندے کی سارے دن کی حرکات کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ یا موبائل فون کمپنی اسکا ریکارڈ رکھنا شروع کر دے تو پھر آپ کسی وقت بھی اس کو دیکھ کر صارف کی مصروفیات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ جب صرف موبائل فون اتنا بہتر ریکارڈ رکھ سکتا ہے تو جی پی ایس جو پانچ میٹر تک درست اندازہ کر سکتا ہے اس سے ریکارڈ رکھنے سے کیسے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں بلکہ میرا ایک دوست جو آسٹریلیا سے اسی ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر کے آیا ہے اس کے مطابق تو ہم ایک میٹر بلکہ اس سے کم فرق سے کسی آلے کی جگہ کا تعین کر سکتے ہیں۔ یہ تو ابھی جگہ کا تعین کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہے ۔پچھلے دنوں ٹویوٹا نے ویل چیئر کو دماغ کے ذریعے کنٹرول کیا اور انٹیل کے مطابق ہم 2020ء تک اس قابل ہو جائیں گے کہ دماغ کے ذریعے کمپیوٹر کو کنٹرول کر سکیں۔ پھر ہمارے جسم میں موجود اللہ تعالی نے اتنے سینسرز لگائے ہوئے ہیں ان سب کا ریکارڈ بھی رکھا جا سکے گا جیسے آج میں نے کیا کچھ سنا ، دیکھا یا چکھا۔ خواب ریکارڈ کرنے کی ٹیکنالوجی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ یعنی بندے کے ہر سینسر کی معلومات محفوظ کی جا سکے گی اور پھرکسی کے لئے ایسا آلہ بنانا مشکل نہیں ہے جس کی مدد سے ان تمام سیسنسرز کی ریکارڈنگ ایک ہی جگہ پر ہو سکے۔ اس طرح ہم اپنا اعمال نامہ خود بھی محفوظ رکھنے کے قابل ہو جائیں گے جبکہ ابھی ہم اپنے جسم کے بارے میں کچھ کچھ جانتے ہیں ۔ لیکن ہمیں ابھی یہ یقین بھی نہیں آتا کہ روز قیامت اللہ تعالی اس سارے ریکارڈ کو کس طرح ہمارےسامنے پیش کریں گے۔ جس نے پتہ نہیں اور کون کون سے سینسرز اور ان کا ریکارڈنگ سسٹم ہمارے جسموں کے اندر فٹ کر رکھا ہے۔ شاید جب ہم ان میں سے زیادہ تر سینسرز کو ریکارڈ کرنے کے قابل ہو گئے تو ہمارا اللہ تعالی پر یقین اور بڑھ جائے۔اور ہم اپنا اعمال نامہ بہتر بنانے کی کوشش کریں۔