Friday, November 20, 2009

اعمال نامہ

پچھلے دنوں اپنے ایک دوست ، جو کہ سیکورٹی اور انڈسٹریل آلات بناتا ہے، کے پاس گیا اور اس سے ایسا سیکورٹی آلہ بنانے کی فرمائش کی جس سے کسی بھی موبائل فون کو ،جو اس آلے کے ادر گرد موجود ہو ،اپنے پاس رجسٹر کر لے اور اس کو کمپیوٹر سکرین پر ظاہر کردے۔ ہم تین چار گھنٹے اس کی تفصیلات کو طے کرتے رہے۔ پھر میں گھر آ کر بھی اس بارے میں سوچتا رہا۔  اسی کی تفصیلات کے بارے میں سوچتے سوچتے اچانک محسوس ہوا کہ ہم موبائل فون کمپنیوں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس موبائل فون ہے بلکہ دو دو اور تین تین بھی ہیں۔لیکن ہمیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ یہ فون ہمارا عمال نامہ لکھ رہے ہوتے ہیں۔
کیونکہ جونہی ہم موبائل فون کو آن کرتے ہیں تو وہ قریب موجود تمام ٹاورز کو تلاش کرتا ہے اور قریب ترین بیس سٹیشن اس فون کو رجسٹر کر لیتا  ہے لیکن ٹاورز بھی اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور فون کے سگنلز کا تجزیہ کرتے رہتے ہیں اس سے موبائل فون کمپنی کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ فون کس کس ٹاورسے کتنے فاصلے پر ہے اور اس فون کی جگہ کا تعین کر لیتے ہیں۔ یہ جگہ کا اندازہ کم و بیش پچاس میٹر تک درست ہو سکتا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی بندہ کمپنی کے سوئچ روم میں بیٹھا کسی موبائل فون کو مسلسل مشاہدے میں رکھنا شروع کر دے تو وہ اس بندے کی سارے دن کی حرکات  کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ یا موبائل فون کمپنی اسکا ریکارڈ رکھنا شروع کر دے تو پھر آپ کسی وقت بھی اس کو دیکھ کر صارف کی مصروفیات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ جب صرف موبائل فون اتنا بہتر ریکارڈ رکھ سکتا ہے تو جی پی ایس جو پانچ میٹر تک درست اندازہ کر سکتا ہے اس سے ریکارڈ رکھنے سے کیسے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں بلکہ میرا ایک دوست جو آسٹریلیا سے اسی ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کر کے آیا ہے اس کے مطابق تو ہم ایک میٹر بلکہ اس سے کم فرق سے کسی آلے کی جگہ کا تعین کر سکتے ہیں۔ یہ تو ابھی جگہ کا تعین کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال ہے ۔پچھلے دنوں ٹویوٹا نے ویل چیئر کو دماغ کے ذریعے کنٹرول کیا اور انٹیل کے مطابق ہم 2020ء تک اس قابل ہو جائیں گے کہ دماغ کے ذریعے کمپیوٹر کو کنٹرول کر سکیں۔ پھر ہمارے جسم میں موجود اللہ تعالی نے اتنے سینسرز لگائے ہوئے ہیں ان سب کا ریکارڈ بھی رکھا جا سکے گا جیسے آج میں نے کیا کچھ سنا ، دیکھا یا چکھا۔ خواب ریکارڈ کرنے کی ٹیکنالوجی بھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ یعنی بندے کے ہر سینسر کی معلومات محفوظ کی جا سکے گی اور پھرکسی کے لئے ایسا آلہ بنانا مشکل نہیں ہے جس کی مدد سے ان تمام سیسنسرز کی ریکارڈنگ ایک ہی جگہ پر ہو سکے۔ اس طرح ہم اپنا اعمال نامہ خود بھی محفوظ رکھنے کے قابل ہو جائیں گے جبکہ ابھی ہم اپنے جسم کے بارے میں کچھ کچھ جانتے ہیں ۔ لیکن ہمیں ابھی یہ یقین بھی نہیں آتا کہ روز قیامت اللہ تعالی اس سارے ریکارڈ کو کس طرح ہمارےسامنے پیش کریں گے۔ جس نے پتہ نہیں اور کون کون سے سینسرز اور ان کا ریکارڈنگ سسٹم ہمارے جسموں کے اندر فٹ کر رکھا ہے۔ شاید جب ہم ان میں سے زیادہ تر سینسرز کو ریکارڈ کرنے کے قابل ہو گئے تو ہمارا اللہ تعالی پر یقین اور بڑھ جائے۔اور ہم اپنا اعمال نامہ بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

Saturday, November 07, 2009

مسجد میں موبائل


مسجد میں اگر کسی نمازی کا موبائل فون بج رہا ہو یا دوران نماز اپنا ہی  فون بج رہا ہو تو دل کرتا ہے کہ جو فون کر رہاہے اسے جوتے مارے جائیں۔ کیا موبائل کمپنیاں ایسا نہیں کر سکتیں کہ کوئی کوڈ دے دیں جس سے موبائل سروس تھوڑی دیر کے لئے بند ہوجائے جیسے #6262915*  (62629  NAMAZ کے لئے ہے اور 15 وہ وقت ہے جتنے منٹ ہم سروس بند کرنا چاہتے ہیں۔) ڈائل کریں تو سروس پندرہ منٹ کے لئے بند ہو جائے اور فون کرنے والے کو پیغام مل جائے کہ بوجہ نماز  صارف دستیاب نہیں ہے۔موبائل کمپنیوں کے لئے ایسا کرنا مشکل نظر نہیں آتا۔لیکن وہ ایسا کریں گی کہ نہیں یہ فیصلہ میں نہیں کر پا رہا۔بہرحال آج کل جس طرح موبائل کمپنیاں سہولیات دے رہی ہیں یہ ایسی ویلیو ایڈڈ سروس ہو سکتی ہے جس سے کسی بھی کمپنی کے صارفین بڑھ سکتے ہیں۔
اور ایک حل مساجد میں جیمرز لگانا بھی ہے۔ لیکن یہ ذرا مہنگا حل ہے۔ جوشاید کوئی مسجد انتظامیہ لگاناپسند نہ کرے۔

ویسے ایک حل ایسی رنگ ٹون منتخب کرنا بھی جس سے مسجد میں کسی کو احساس نہ ہو کہ موبائل فون بج رہا ہے۔ ایسی رنگ ٹونز میں مجھے سب سے بہتر جھینگر کی آواز والی رنگ ٹون لگی جس سے یہی احساس ہوتا ہے کہ شاید مسجد کے کسی کونے میں جھینگر بولنا شروع ہو گیا ہے۔ پانی کی آواز والی رنگ ٹون بھی کام کرتی ہے۔ویسے  ان دنوں بلی کی آواز والی رنگ ٹون منتخب کی ہے۔جس سے دفتر میں موجود لوگ تو پہلے دن دھوکہ کھا گئے ۔ دیکھتے ہیں کہ مسجد میں بلی کب بولتی ہے؟اور کیا یہ مجھے نمازیوں کی محبت بھری نظروں سے محفوظ رکھ سکے گی؟


Tuesday, October 20, 2009

گوجرانوالہ

"Lying as it does on the highway by which the successive hordes of invaders from the north marched down to the struggle for the empire of Hindustan, and by which they returned victorious or defeated; closely identified also with the stirring events which led to the rise of the Sikh monarchy on the ruins of the old Mughal empire, few tracts in the Central Punjab have had a more unsettled history than Gujranwala District. One result of the chaos and confusion that prevailed is the absence of any authentic information as to the history of the district prior to Mughal rule to the early days of which most of the present tribes date their settlement in the district."
(Gazetteer of the Gujranwala District 1935)
سرزمین گوجرانوالہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جسے گردشِ لیل ونہار نے بارہا برباد بھی کیا ہے اور آباد بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اجاڑا ہی نہیں سنوارا بھی ہے بگاڑا ہی نہیں نکھارا بھی ہے۔ جس نے کبھی تو کشور کشاؤں کی یلغار کے طلسم کو بکھیر کر رکھ دیا۔ اور کبھی فاتحین وقت کی سفاکی وبہیمیت کا نشانہ بن گئی۔ جسے کبھی تو پہلوانوںکا شہر کہا جاتا رہا ہے۔ اور کبھی اہل علم و دانش کی تمدن آفرینی کی بدولت اسے ’’شیرازِ پاکستان ‘‘ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ سر زمین صدیوں سے اس تاریخی گزرگاہ کی خاموش تماشائی ہے جہاں سے غزنوی جلال کے نمائندہ لشکر بھی گزرے ہیں اور چنگیزو تیمور کے وارث مغل حکمرانوں کے میلوں تک پھیلے ہوئے فوجی دستے بھی ۔ اس نے افغان سورماؤں کے لہراتے ہوئے فتح ونصرت کے پھریرے بھی دیکھے ہیں اور مغل سلطنت کے زوال کے بعد سکھ شاہی کے ہاتھوں وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کے نظارے بھی۔